لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم پر جنسی ہراسگی کا الزام لگانے والی لڑکی قاتلانہ حملے میں محفوظ رہی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق حامزہ مختار نامی لڑکی پر کاہنہ کے قریب حملہ ہوا۔ اتوار کو 8 بجے کے قریب حامزہ کی گاڑی پر 2 نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے گولیاں چلائیں۔
حملہ آوروں نے حامزہ کی گاڑی پر 4 فائر کیے۔بابر اعظم پر الزام لگانے والی لڑکی فائرنگ کے واقعے میں بچ گئی۔حامزہ مختار نے خود پر قاتلانہ حملے کی درخواست تھانہ کاہنہ میں جمع کروا دی۔
حملے کے بعد ایک ویڈیو بیان میں حامزہ مختار کا کہنا ہے کہ وہ پہلے بھی تحفظ دینے کا مطالبہ کرچکی ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ ہے کہ وہ اس معاملے کو ذاتی طور پر دیکھیں۔واضح رہے کہ حامزہ مختار نے گزشتہ ہفتے ایک پریس کانفرنس میں قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم پر جنسی ہراسگی سمیت کئی دیگر الزامات عائد کیے ہیں۔ خاتون کا دعویٰ ہے کہ 2010 میں بابر اعظم نے شادی کا وعدہ کیا لیکن جب بھی نکاح کا مطالبہ کرتی تو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا، دونوں فیملیز شادی کے لیے تیار نہیں تھیں، بالآخر بابراعظم نے انکار کر دی
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ہفتے کو ہزاروں افراد حکومتی قوانین کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے جن کا کئی مقامات پر پولیس سے تصادم ہوا۔ مشتعل مظاہرین نے پولیس تشدد کے خلاف مظاہروں میں متعدد دکانوں میں توڑ پھوڑ کی جب کہ کئی گاڑیوں کو آگ بھی لگا دی۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کی جاری کردہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ پیرس کی مرکزی شاہراہ پر ہزاروں افراد مظاہرے کے لیے نکلے۔ ان میں زیادہ تر افراد نے سیاہ لباس پہن رکھا تھا اور ان کے منہ پر نقاب تھے۔ مظاہرین فرانسیسی پولیس کی پُرتشدد کارروائیوں اور صدر میکخواں کی سیکیورٹی پالیسی کے خلاف شدید نعرے بازی کررہے تھے۔ مظاہرین میں شامل کئی افراد بینر اٹھائے ہوئے تھے اور کئی افراد کے پاس ہتھوڑے بھی تھے، جن سے پولیس کے ساتھ تصادم شروع ہونے کے بعد انہوں نے توڑ پھوڑ کی۔ مظاہرین کو قابو کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا۔ مشتعل مظاہرین نے متعدد دکانوں میں توڑ پھوڑ کی اور کئی گاڑیوں اور املاک کو آگ لگا دی۔ واضح رہے کہ فرانس میں صدر میکخواں کی جانب سے پولیس کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے متعارف کردہ قوانین کے خلاف احتجاجی لہر شد...

Comments
Post a Comment