Skip to main content

مینار پاکستان جلسہ ، پی ڈی ایم کی قیادت کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا

  لاہور میں مینار پاکستان پر جلسہ کرنے والی اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی مرکزی قیادت کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں پی ڈی ایم کی مرکزی قیادت کے خلاف مقدمہ تھانہ لاری اڈہ میں درج کیا گیا۔ مقدمے میں مریم نواز، خواجہ سعدرفیق، احسن اقبال، شاہد خاقان، راناثنااللہ اور مریم اورنگزیب سمیت متعدد رہنما کو نامزد کیا گیا ہے، مقدمہ کارسرکار میں مداخلت سمیت 15 دفعات کے تحت درج کیا گیا۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق شرکا نے قومی ورثہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ مقدمے میں کورونا ایس اوپیز اور ساؤنڈسسٹم ایکٹ کی خلاف ورزی کی دفعات شامل ہیں۔ مقدمہ پی ایچ اے کے سیکیورٹی افسر محمد ضمیر کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز بھی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے لاہور جلسہ کے خلاف دو مقدمات درج کیے گئے تھے۔


مقدمات پی ایچ اے سکیورٹی انتظامیہ کی مدعیت میں درج کیے گئے جن میں سنگین نتائج کی دھمکیاں، توڑ پھوڑ، کار سرکار میں مداخلت کی دفعات شامل تھیں۔ پہلا مقدمہ سکیورٹی سپروائزرمحمد یوسف کی مدعیت میں درج کیا گیا جبکہ دوسرا مقدمہ ذیشان حیدر نقوی کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ دونوں مقدمات میں پارک کے تالے توڑنے اور زبردستی داخل ہونے کا الزام عائد کیا گیا ۔


ایف آئی آر کے متن کے مطابق 20 سے 25 افراد لوگ آئے جنہوں نے 5 نمبر گیٹ کو ہتھوڑے اور اینٹوں کی ضرب مار کر توڑ دیا، سکیورٹی گارڈ کو دھکے مارتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں جبکہ دوسرے مقدمہ کی ایف آئی آر کے مطابق چند کارکنوں کی جانب سے نعرے بازی کی گئی، کار سرکار میں مداخلت کرتے ہوئے زبردستی گاڑیوں کو بمعہ سامان پارک کے اندر داخل کیا گیا۔ خیال رہے کہ دو روز قبل 13 دسمبر کو پی ڈی ایم نے مینار پاکستان لاہور میں جلسہ کیا جو پی ڈی ایم قیادت کی اُمیدوں پر پورا نہیں اُتر سکا اور ناکام ہو گیا۔ بلاول بھٹو سمیت پی ڈی ایم رہنماؤں نے دعویٰ کیا تھا کہ 13 دسمبر کا جلسہ لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہوگا لیکن لوگوں کی کم تعداد کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سک

Comments

Popular posts from this blog

فرانس میں صدرکے خلاف پُرتشدد مظاہرے، مارکیٹوں پر حملے اورگاڑیاں نذرِ آتش

 غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق  ہفتے کو ہزاروں افراد حکومتی قوانین کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے جن کا کئی مقامات پر پولیس سے تصادم ہوا۔ مشتعل مظاہرین نے پولیس تشدد کے خلاف مظاہروں میں متعدد دکانوں میں توڑ پھوڑ کی جب کہ کئی گاڑیوں کو آگ بھی لگا دی۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کی جاری کردہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ پیرس کی مرکزی شاہراہ پر ہزاروں افراد  مظاہرے کے لیے نکلے۔ ان میں زیادہ تر افراد نے سیاہ لباس پہن رکھا تھا اور ان کے منہ پر نقاب تھے۔ مظاہرین فرانسیسی پولیس کی پُرتشدد کارروائیوں اور صدر میکخواں کی سیکیورٹی پالیسی کے خلاف شدید نعرے بازی کررہے تھے۔ مظاہرین میں شامل کئی افراد بینر اٹھائے ہوئے تھے اور کئی افراد کے پاس ہتھوڑے بھی تھے، جن سے پولیس کے ساتھ تصادم شروع ہونے کے بعد انہوں نے توڑ پھوڑ کی۔ مظاہرین کو قابو کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا۔ مشتعل مظاہرین نے متعدد دکانوں میں توڑ پھوڑ کی اور کئی گاڑیوں اور املاک کو آگ لگا دی۔ واضح رہے کہ فرانس میں صدر میکخواں کی جانب سے پولیس کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے متعارف کردہ قوانین کے خلاف احتجاجی لہر شد...

سرکاری نوکریوں کا اعلان ، 1900 نئے لیکچررز بھرتی کیے جائیں گے بی ایس لیول کے لیے نئے لیکچررز کو گریڈ 17 میں بھرتی کیا جائے گا ، 50 کروڑ روپے سے زائد کی رقم بھی مختص کردی گئی ، ترجمان خیبر پختونخوا حکومت

  خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے تعلیمی اداروں میں نئے اساتذہ بھرتی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس حوالے سے تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے 1900 نئے لیکچررز بھرتی کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ، اس مقصد کے لیے 50 کروڑ روپے سے زائد کی رقم بھی مختص کردی گئی ہے ، مذکورہ رقم سے صوبے میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے پر بھی کام کیا جائے گا۔ ترجمان خیبرپختونخوا حکومت کامران بنگش کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ صوبے میں مجموعی طورپر1900نئے لیکچررز بھرتی کیے جائیں گے ، جن میں سے صوبے میں کالجز کی سطح پر نئے اساتذہ کو بھرتی کیا جائے گا ، بی ایس لیول کے لیے لیکچررز گریڈ 17 میں بھرتی ہوں گے۔ اس ضمن میں صوبہ پنجاب میں رہائش پذیر بے روزگاروں کے لیے بھی اچھی خبر ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے پولیس میں 5 ہزار 700 نئی بھرتیوں کی منظوری دے دی ، گونگے بہرے افراد کو ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کے لیے قانون سازی کی تجویز بھی مان لی گئی ، عثمان بزدار نے صوبے کے 101 تھانوں کو اراضی کی منتقلی کا عمل تیز کرنے کی بھی ہدایت کردی۔ تفصیلات کے مطابق صوبہ پنجاب میں پولیس افسران کو ’اوپن ڈور‘ پالیسی پر عمل درآمد ...

کسی کا ظاہر دیکھ کر اس کے ایمان پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا، آئمہ بیگ

 لاہور: گلوکارہ آئمہ بیگ کا کہنا ہے کہ کسی کا ظاہر دیکھ کر اس کے ایمان پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا اور نہ ہی کسی کے لباس سے اس بات کا تعین کیا جاسکتا کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں۔ فلم ’نامعلوم افراد‘ اور ’طیفہ ان ٹربل‘ سمیت متعدد فلموں اور کوک اسٹوڈیو میں اپنی آواز کا جادو جگانے والی آئمہ بیگ اپنی گلوکاری کی وجہ سوشل میڈیا پر فعال رہتی ہیں تاہم صارفین ان کی گائیگی سے ہٹ کر ان کے فیشن میں دلچسپی رکھتے ہیں کیوں کہ نوجوان گلوکارہ فیشن آئیکون بھی سمجھی جاتی ہیں اور اکثر اپنے لباس کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہتی ہیں۔ ایک انٹریو میں جب ان کے لباس سے متعلق سوال پوچھا گیا کہ ’’انہیں کیسا لگتا ہے جب سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر پر کوئی کمنٹ میں یہ پوچھتا ہے کہ کیا آپ مسلمان ہیں ؟ سوال کے جواب میں آئمہ بیگ کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں آپ کسی کے ایمان پر سوال نہیں اٹھاسکتے، کسی کو یہ نہیں پتہ کہ میرا اللہ کے ساتھ کیا تعلق تھا، ہے یا پھر رہے گا، میں اپنی زندگی میں کن چیزوں سے گزری ہوں اور کن چیزوں نے مجھے میرے رب کے قریب کرکے میرا ایمان مضبوط کیا، یہ صرف میں جانتی ہوں۔ گلوکارہ نے کہا کہ اپنے اندر سے م...