Skip to main content

کسی کا ظاہر دیکھ کر اس کے ایمان پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا، آئمہ بیگ

 لاہور: گلوکارہ آئمہ بیگ کا کہنا ہے کہ کسی کا ظاہر دیکھ کر اس کے ایمان پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا اور نہ ہی کسی کے لباس سے اس بات کا تعین کیا جاسکتا کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں۔

فلم ’نامعلوم افراد‘ اور ’طیفہ ان ٹربل‘ سمیت متعدد فلموں اور کوک اسٹوڈیو میں اپنی آواز کا جادو جگانے والی آئمہ بیگ اپنی گلوکاری کی وجہ سوشل میڈیا پر فعال رہتی ہیں تاہم صارفین ان کی گائیگی سے ہٹ کر ان کے فیشن میں دلچسپی رکھتے ہیں کیوں کہ نوجوان گلوکارہ فیشن آئیکون بھی سمجھی جاتی ہیں اور اکثر اپنے لباس کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہتی ہیں۔

ایک انٹریو میں جب ان کے لباس سے متعلق سوال پوچھا گیا کہ ’’انہیں کیسا لگتا ہے جب سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر پر کوئی کمنٹ میں یہ پوچھتا ہے کہ کیا آپ مسلمان ہیں ؟

سوال کے جواب میں آئمہ بیگ کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں آپ کسی کے ایمان پر سوال نہیں اٹھاسکتے، کسی کو یہ نہیں پتہ کہ میرا اللہ کے ساتھ کیا تعلق تھا، ہے یا پھر رہے گا، میں اپنی زندگی میں کن چیزوں سے گزری ہوں اور کن چیزوں نے مجھے میرے رب کے قریب کرکے میرا ایمان مضبوط کیا، یہ صرف میں جانتی ہوں۔

گلوکارہ نے کہا کہ اپنے اندر سے میں بخوبی واقف ہوں لیکن میں کسی کو کھول کر نہیں دکھاسکتی کہ میرا رب کے ساتھ کیا تعلق ہے جب کہ کسی کے لباس سے اس بات کا تعین نہیں کیا جاسکتا کہ وہ شخص مسلمان نہیں ہے، یہ کہنا بہت آسان ہے کہ آپ مسلمان نہیں کیوں کہ آپ نے مسلمانوں والا لباس نہیں پہنا۔


اس خبر کو بھی پڑھیں؛ آئمہ بیگ کب شادی کررہی ہیں؟ گلوکارہ نے خود ہی بتادیا

ایک اور سوال کے جواب میں آئمہ بیگ کا کہنا تھا کہ لوگوں کا ایک ذہن بن چکا ہے کہ مسلمانوں کو ایسا لباس پہننا چاہیے اور وہ ہر ایک کو اسی لباس میں دیکھنا چاہتے ہیں جب کہ اسلام بہت پرامن مذہب ہے، اسلام میں کچھ لوگوں کو جو فساد دکھائی دیتا ہے وہ حقیقت نہیں بلکہ معاشرے کے ایک طبقے کی جانب سے پیدا کردہ ہے۔

گلوکارہ نے انکشاف کیا کہ میرا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے اور جب میں نے اپنے والد کو یہ بتایا کہ میں گلوکارہ بننا چاہتی ہوں تو میرے والد نے مجھے کہا، اپنے نام کے آگے سے بیگ ہٹا دینا

Comments

Popular posts from this blog

ئی چینی مارکیٹ میں آ گئی، قیمتوں میں نمایاں کمی

  مقامی سطح پر گنے کی کرشنگ کے بعد نئی چینی مارکیٹ میں آ چکی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق نئی چینی مارکیٹ میں آتے ہی چینی کی قیمتوں میں 20 سے 23 روپے فی کلو تک کمی آ گئی ہے۔ مارکیٹ میٰں آج چینی اوسطاََ 85 روپے فی کلو تک فروخت ہوئی ۔ چینی کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے شہریوں کا کہنا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں کمی سے ریلیف ملا ہے۔ چینی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کیا گیا تھا، چینی کی قیمتوں میں کمی اچھا اقدام ہے ۔ اس کے ساتھ ہی عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ باقی کھانے پینے کی دیگر چیزوں کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں ۔ واضح رہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران  پنجاب  میں چینی کی فی کلو قیمت 11O روپے سے بھی تجاوز کر گئی تھی، جس کے بعد ملک میں چینی بحران کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی، لیکن حکومتی اقدامات کے باعث بروقت گنے کی کرشنگ اور مقامی چینی اوپن مارکیٹ میں آتے ہی چینی کی قیمت میں سے کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔ یاد رہے کہ کچھ دن قبل  وزیراعظم  عمران خان نے کہا تھا کہ حکومتی اقدامات سے چینی 20 دن میں 20 روپے فی کلو سستی ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ درآمدی چینی کی کنٹرول نرخ...

سرکاری نوکریوں کا اعلان ، 1900 نئے لیکچررز بھرتی کیے جائیں گے بی ایس لیول کے لیے نئے لیکچررز کو گریڈ 17 میں بھرتی کیا جائے گا ، 50 کروڑ روپے سے زائد کی رقم بھی مختص کردی گئی ، ترجمان خیبر پختونخوا حکومت

  خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے تعلیمی اداروں میں نئے اساتذہ بھرتی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس حوالے سے تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے 1900 نئے لیکچررز بھرتی کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ، اس مقصد کے لیے 50 کروڑ روپے سے زائد کی رقم بھی مختص کردی گئی ہے ، مذکورہ رقم سے صوبے میں تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے پر بھی کام کیا جائے گا۔ ترجمان خیبرپختونخوا حکومت کامران بنگش کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ صوبے میں مجموعی طورپر1900نئے لیکچررز بھرتی کیے جائیں گے ، جن میں سے صوبے میں کالجز کی سطح پر نئے اساتذہ کو بھرتی کیا جائے گا ، بی ایس لیول کے لیے لیکچررز گریڈ 17 میں بھرتی ہوں گے۔ اس ضمن میں صوبہ پنجاب میں رہائش پذیر بے روزگاروں کے لیے بھی اچھی خبر ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے پولیس میں 5 ہزار 700 نئی بھرتیوں کی منظوری دے دی ، گونگے بہرے افراد کو ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کے لیے قانون سازی کی تجویز بھی مان لی گئی ، عثمان بزدار نے صوبے کے 101 تھانوں کو اراضی کی منتقلی کا عمل تیز کرنے کی بھی ہدایت کردی۔ تفصیلات کے مطابق صوبہ پنجاب میں پولیس افسران کو ’اوپن ڈور‘ پالیسی پر عمل درآمد ...

فرانس میں صدرکے خلاف پُرتشدد مظاہرے، مارکیٹوں پر حملے اورگاڑیاں نذرِ آتش

 غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق  ہفتے کو ہزاروں افراد حکومتی قوانین کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے جن کا کئی مقامات پر پولیس سے تصادم ہوا۔ مشتعل مظاہرین نے پولیس تشدد کے خلاف مظاہروں میں متعدد دکانوں میں توڑ پھوڑ کی جب کہ کئی گاڑیوں کو آگ بھی لگا دی۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کی جاری کردہ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ پیرس کی مرکزی شاہراہ پر ہزاروں افراد  مظاہرے کے لیے نکلے۔ ان میں زیادہ تر افراد نے سیاہ لباس پہن رکھا تھا اور ان کے منہ پر نقاب تھے۔ مظاہرین فرانسیسی پولیس کی پُرتشدد کارروائیوں اور صدر میکخواں کی سیکیورٹی پالیسی کے خلاف شدید نعرے بازی کررہے تھے۔ مظاہرین میں شامل کئی افراد بینر اٹھائے ہوئے تھے اور کئی افراد کے پاس ہتھوڑے بھی تھے، جن سے پولیس کے ساتھ تصادم شروع ہونے کے بعد انہوں نے توڑ پھوڑ کی۔ مظاہرین کو قابو کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا۔ مشتعل مظاہرین نے متعدد دکانوں میں توڑ پھوڑ کی اور کئی گاڑیوں اور املاک کو آگ لگا دی۔ واضح رہے کہ فرانس میں صدر میکخواں کی جانب سے پولیس کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے متعارف کردہ قوانین کے خلاف احتجاجی لہر شد...